ابنا: ایران کی جوہری مذاکرات ٹیم کے ایک سابق رکن سید حسین موسویان نے کہا ہے کہ اپنی جوہری توانائی سے متعلق ضروریات کے پیش نظر تہران، گروپ پانچ جمع ایک کو جوہری توانائی سے بھرپور استفادہ کئے جانے کے بارے میں مکمل تفصیلات کے ساتھ ایک منصوبہ پیش کرسکتا ہے۔ انھوں نے اس سلسلے میں اپنے ایک مقالے میں لکھا ہے کہ مذاکرات کاروں کیلئے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ، جوہری توانائی سے متعلق ایران کی ضروریات کا اندازہ لگانا ہے اسلئے کہ جنیوا سمجھوتے کے مطابق جامع طریقۂ عمل، ایران کی عملی ضروریات کی بنیاد پر ایک نمایاں دائرۂ کار میں یورینیم کی افزودگی کا پروگرام، جاری رکھنا ہے۔ سید حسین موسویان نے جوہری توانائی کے استعمال کے مواقع بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت دنیا کے پینتالیس سے زائد ممالک، اپنی ضروریات سے متعلق نہ صرف جوہری پروگرام جاری رکھے ہوئے ہیں بلکہ اپنے اس پروگرام کو آگے بھی بڑھا رہے ہیں۔
.......
/169